غریب بھی لٹیرے ہو سکتے ہیں۔۔۔!
آپ کو سوشل میڈیا پر جابجا ایسی تصاریر نظر آئیں گی جس میں کوئی مرد یا عورت ٹھیلے پر کوئی جنس رکھے رو رہا ہے اور کیپشن ہو گا کہ ان سے بھی خریدیں وغیرہ وغیرہ ۔۔
سب سے پہلے تو میں واضح کر دوں کہ میں خود ایک غریب بندی ہوں اور فخریہ جمعہ بازار سے سبزی لیتی ہوں۔ بچے چھوٹے ہیں اور گھر میں کوئی اور خاتون بھی نہیں جو انھیں سنبھال لیں سو ان کو بھی گاڑی میں ساتھ ہی بٹھا لیتی ہوں۔ کئی بار کوشش کی کہ گاڑی کے اندر بیٹھے ہی صاف ستھری سبزی یا فروٹ مل جائے۔ کئی بار یہ لالچ بھی دیا کہ جتنے دام آپ کہ رہے ان سے ایک پیسہ بھی کم نہیں کرا رہی سو چیز اچھی دینا شاپر میں لیکن سوائے ایک دو بار کے مایوسی ہی ہوئی۔ سو اب ہر کچھ سو میٹر پر گاڑی لگاتی ہوں باہر نکلتی ہوں اور خود دانے چن کے ڈالتی ہوں۔ اس زحمت کا ذمے دار آپ کے یہ غریب بابو ہی ہیں۔
کیا میرے ساتھ دھوکا کرنے سے وہ ریڑھی بان امیر ہوگئے؟
ایک بار میاں صاحب ساتھ تھے۔ ایک رش بھرے بازار سے گزر تھا کہ ایک خاتون سبزی کا ٹھیلہ چلاتے دکھائی دیں۔ ہمدردی اور تاسف نے دل کو جیسے جکڑ لیا۔ میاں صاحب کو تحکمانہ انداز میں فرمایا کہ آج سبزی ہی بنے گی اور اس خاتون سے ہی لیں۔ بہتیرا انھوں نے کہا کہ آگے سے لے لیتا ہوں ادھر پارکنگ نہیں ملنی لیکن مجھے وومن ایمپاورمنٹ کو فروغ دینے کا جو بخار آرہا تھا اسے تقریبآ دو ڈھائی سو روپے اضافی بھر کے ہی چین آیا۔ جب نئے آلو کو دھو کے پرانوں کی کالک نظر آئی تو ایمپاورمنٹ کے بچے کھچے بخار کی نقاہت بھی جاتی رہی۔ میاں نے جو بھگو بھگو کے جگتبازی کی وہ ایک الگ داستان ہے۔
او خدا کے بندو ! پاکستان کی ساٹھ ملین سے زیادہ ابادی خط غربت سے بھی نیچے زندگی گذار رہی ہے۔ تیس ملین اس میں دیہاتوں کی غریب ابادی ہے۔جہان مہنگے شاپنگ مال ہیں ہی نہیں۔۔ حالیہ اکنامک ڈیزاسٹر کے بعد تو متوسط طبقہ بھی بد حال ہے۔ سو یہ سارے غریب اور متوسط لوگ انھی ٹھیلے والوں سے ہی خریداری کرتے ہیں۔ پاکستان میں امیر ابادی مقابلتاً کافی کم ہے۔
کچھ اچھی باتیں آپ ان ریڑھی بانوں کو بھی سمجھائیں۔ جیسے اگر کوئی بھلے مانس خریدار ا جائے تو پورے دن کے جتنا منافع اسے سے نہ بنا لے۔ یقین جانیں حرام مال امیر اور غریب دونوں کے لئے ایک جیسا ہی برا ہے۔ کچھ گرام کم تول کر آپ کا تین مرلے کا گھر چھ کا کبھی بھی نہیں بنے گا الٹا وہ خریدار آپکے پاس پھر نہیں آئے گا۔ منافع زیادہ کرنے کے لئے کبھی بھی ریٹ نہ بڑھائیں بلکہ سیل بڑھائیں۔ یہی آج کے دور (جو کہ مقابلے سے بھرپور ہے) میں بزنس کے اصول ہیں۔
